Wednesday, 28 December 2022

جس شخص کی باتوں پر خدا بھی مسکراے گا

جس شخص کی باتوں پر خدا بھی مسکراے گا

حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا وہ گرتا پڑتا اور گھسٹتا ہوا دوزخ سے اس حال میں نکلے گا کہ دوزخ کی آگ اسے جلا رہی ہوگی پھر جب دوزخ سے نکل جائے گا تو پھر دوزخ کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور دوزخ سے مخاطب ہو کر کہے گا :

سب سے آخری جنتی کا دلچسپ واقعہ
کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نعمت عطا فرمائی ہے کہ اولین وآخرین میں سے کسی کو بھی وہ نعمت عطا نہیں فرمائی, 

     پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا وہ آدمی ک
ہے گا:

 کہ اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب کر دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ کو حاصل کرسکوں اور اس کے پھلوں سے پانی پیوں .

اللہ تعالیٰ فرمائیں گے :اے ابن آدم اگر میں تجھے یہ دے دوں تو پھر اس کے علاوہ اور کچھ تو نہیں مانگے گا .

وہ عرض کرے گا کہ نہیں اے میرے پروردگار، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے علاوہ اور نہ مانگنے کا معاہدہ فرمائیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائیں گے کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھ چکا ہوگا کہ جس پر اسے صبر نہ ہوگا اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کردیں گے وہ اس کے سائے میں آرام کرے گا اور اس کے پھلوں کے پانی سے پیاس بجھائے گا پھر اس کے لئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو پہلے درخت سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوگا.

 وہ آدمی عرض کرے گا اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پانی پیوں اور اس کے بعد میں اور کوئی سوال نہیں کروں گا.

 اللہ فرمائیں گے اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اور کوئی سوال نہیں کرے گا اور اب اگر تجھے اس درخت کے قریب پہنچا دیا تو پھر تو اور سوال کرے گا.

 اللہ تعالیٰ پھر اس سے اس بات کا وعدہ لیں گے کہ وہ اور کوئی سوال نہیں کرے گا تاہم اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ معذور ہوگا کیونکہ وہ ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہ کرسکے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کو درخت کے قریب کردیں گے وہ اس کے سایہ میں آرام کرے گا اور اس کا پانی پئے گا پھر اسے جنت کے دروزاے پر ایک درخت دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا.

 وہ آدمی کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ میں آرام کروں اور پھر اس کا پانی پیؤں اور اس کے علاوہ کوئی اور سوال نہیں کروں گا.

 پھر اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائیں گے اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے بعد اور کوئی سوال نہیں کرے گا وہ عرض کرے گا ہاں اے میرے پروردگار اب میں اس کے بعد اس کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کروں گا اللہ اسے معذور سمجھیں گے۔ کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہیں کرسکے گا.

 پھر اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کردیں گے جب وہ اس درخت کے قریب پہنچے گا تو جنت والوں کی آوازیں سنے گا .

تو وہ پھر عرض کرے گا اے میرے رب مجھے اس میں داخل کر دے تو اللہ فرمائیں گے اے ابن آدم تیرے سوال کو کون سی چیز روک سکتی ہے کیا تو اس پر راضی ہے کہ تجھے دنیا اور دنیا کے برابر دے دیا جائے وہ کہے گا اے رب! اے رب العالمین تو مجھ سے مذاق کرتا ہے.

 یہ حدیث بیان کر کے حضرت عبداللہ (رض) ہنس پڑے اور لوگوں سے فرمایا کہ تم مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں کیوں ہنسا, لوگوں نے کہا کہ آپ کس وجہ سے ہنسے؟ 

فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح ہنسے تھے فرمایا اللہ رب العالمین کے ہنسنے کی وجہ سے جب وہ آدمی کہے گا کہ آپ رب العالمین ہونے کے باوجود مجھ سے مذاق فرما رہے ہیں تو اللہ فرمائیں گے کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا مگر جو چاہوں کرنے پر قادر ہوں۔

(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 463 )

خالص نیت

تحریر ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ابو نے ایک واقعہ سنایا ۔ جب ابو بیوروکریسی کی ایک اہم پوسٹ پر تعینات تھے تب ان کے ایک دوست کا گریجویٹ بیٹا ابو سے آفس میں ملنے کے لیے آیا ۔ بےروزگار تھا۔ ذہین تھا اور مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا ۔ ابو کے دوست نے ابو کے پاس یہ کہہ کے بھیجا تھا کہ درانی صاحب بھتیجے کی رہنمائی کیجیے کہ مقابلے کے امتحان میں کون سے مضامین سیلیکٹ کرے اور کیسے تیاری کرے ۔

بھتیجا بھی نہایت تابع دار قسم کا تھا۔ چاچا جی ،چاچو سے کم بات نہیں کرتا تھا۔ گردن جھکی اور ہاتھ نماز کی حالت میں پیٹ کے سامنے باندھ کے نہایت فرمانبرداری سے ابو کی نصیحتیں سنتا رہا ۔ ابو کو بھی ذہین بھتیجے پر پیار آ ریا تھا ۔نہایت شفقت سے اسکا تفصیلی انٹرویو کیا اس کے مینٹل ایپٹیٹیوڈ کے مطابق اسے مضامین چننے میں مدد دی ۔ بعد میں بھی امتحان ہونے تک بھتیجا وقتا فوقتا فون کر دیتا ۔ابو اپنی اخلاقی ذمےداری کے ساتھ ساتھ ایک بزرگ کی سی شفقت سے اس کی رہنمائی کرتے رہے ۔ ہم بچوں کو بھی اس کی مثال دیتے کہ دیکھو کتنا تابع دار بچہ ہے اور ترقی پسند بھی ہے اپنے حالات سے نکلنے کے لیے اچھی جستجو کر رہا ہے ۔

کافی وقت بیت گیا ۔ ایک روز ابو اپنے کولیگ سے ملنے کے لیے اس کے آفس گئے ۔ کولیگ کا نام سنا سنا سا تھا ابو کو بھتیجا یاد تھا ۔ اور اس کی تابعداری بھی ۔خیر آفس میں داخل ہوئے تو گورنمنٹ آفیسر ، ایکس بھتیجے نے اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کے اپنے سینئیر آفیسر کا استقبال ان الفاظ میں کیا ہیلو مسٹر درانی ہاو ڈو یو ڈو ۔ ہیو آ سیٹ پلیز ۔ کیسا چچا کیسا بھتیجا۔ نئی نئی افسری کی شان تھی سو بس وہی شان قائم تھی ۔باقی سب وقتی تعلق تھے سو گئے وقتوں کے پانیوں میں کب کے بہہ چکے تھے

نہ چچا نہ چاچو نہ شناسائی کی رمق۔ ابو بھی انسانی نفسیات کے ماہر تھے وہاں اپنے مخصوص افسرانہ انداز میں پروفیشنل گفتگو کر کے واپس آ گئے لیکن گھر آنے پر مجھے اس بھتیجے کا قصہ سنایا ۔ اور یہ بھی سمجھایا کہ بیٹا انسانی ظرف اس وقت کھل کے سامنے آتا ہے جب انسان دولت طاقت یا عہدہ حاصل کر لیتا ہے ۔ کمزور حیثیت انسان میٹھا بھی ہوتا ہے تابع دار بھی اور فرمانبردار بھی۔ اس کا خاندانی وقار اور تربیت تب ظاہر ہوتی ہے جب وہ طاقتور ہوتا ہے ۔

ابو نے یہ سب سمجھانے کے بعد بس اتنا کہا کہ بیٹا جب کسی کی مدد کرنا تو بنا کسی توقع کے کرنا یہ بھی مت سوچنا کہ کبھی زندگی میں یہ تمہیں دوبارہ پہچانے گا بھی۔ نیکی کسی بھی وجہ سے کرو نیت خالص اللہ کے لیے رکھو ۔
وہی اصل قدر دان ہے

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

Saturday, 9 July 2016

Sunday, 18 August 2013

Saturday, 16 July 2011